ابنا: مصر میں صدارتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی اقتدار سے اس ملک کی مسلح افواج کی اعلی کونسل کے الگ ہونے کی راہ ہموار ہوجاۓ گی۔ یہ بات مسلم ہے کہ مصر میں صدارتی انتخابات کا انعقاد جدید مصر کے سیاسی عمل میں ایک اہم مرحلہ ہے۔ اسی لۓ مصر کے متعدد گروہ اس ملک میں ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت کی سرنگونی کے بعد ایک اہم ترین سیاسی عمل میں شرکت کی تیاریاں کررہے ہیں۔ عرب لیگ کے سابق سربراہ عمرو موسی ، سابق وزیر اعظم احمد شفیق اور اخوان المسلمین کے سابق رکن عبد المنعم ابو الفتوح کا شمار اس ملک کی ان مشہور شخصیات میں سے ہوتا ہے جو صدارتی انتخابات کی ممکنہ امیدوار ہیں۔ صدارتی انتخابات میں شرکت کے لۓ انتہا پسند اور متعدل اسلام پسندوں نے بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ مصر کی پارلیمنٹ میں سلفیوں کے پاس بھی کافی نشستیں ہیں اور انھوں نے تاکید کی ہے کہ وہ صدارتی انتخابات میں اپنا الگ امیدوار کھڑا کریں گے۔ فی الحال ان کا اپنے ایک دانشمند خفاجی پر اتفاق راۓ ہوا ہے۔بہت سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ مصر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اصل مقابلہ اسلام پسند ، سلفی اور لبرل پارٹیوں کے درمیان ہوگا۔ دریں اثناء ان قوم پرست جماعتوں اور شخصیات کو زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی توقع ہے جو جدید مصر اور ملک میں جمہوریت کی برقراری کے نعرے کے ساتھ انتخابات کے میدان میں اتری ہیں۔ بہرحال مصر کے عوام کے لۓ یہ چیز اہمیت رکھتی ہے کہ نہ صرف مسلح افواج کی اعلی کونسل جلد از جلد اقتدار سے الگ ہوجاۓ بلکہ مصری سیاست میں فوجیوں کی سرگرمیوں پر پابندی بھی لگائي جاۓ۔
مصر میں فوج اور جنرل سالہا سال تک سیاسی نظام کا حصہ رہے ہیں۔ حالیہ عشروں کے دوران مصر کے اکثر سربراہ فوجی ہی تھے اس لۓ فوجیوں کا اقتدار سے الگ ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔ اور مصر کی فوج کے ایک حصے نے بعض صدارتی امیدواروں کی حمایت شروع کر دی ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ مصر میں مئی کے مہینے میں ہونے والے صدارتی انتخابات مصر کی تاریخ میں بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اور ان انتخابات میں بہت سے سیاسی اور فکری گروہ اپنا اپنا منشور اور افکار و نظریات منظر عام پر لائيں گے۔ حالیہ عشروں کے دوران سماجی مقام رکھنے کے باوجود ان میں سے بہت سے فکری اور سیاسی گروہوں کو انتخابات میں شرکت سے منع کردیا گيا تھا لیکن اس ملک میں حال ہی میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ مصر میں ایک نۓ مرحلے کا آغاز ہوچکا ہے اور موجودہ صورتحال ان سیاسی اور فکری گروہوں کے فائدے میں ہے جن کی سرگرمیوں پر حسنی مبارک کی حکومت نے پابندی لگا رکھی تھی۔....... /169